Monday, 5 January 2026

میرا الارم بننے کی کوئی ضرورت نہیں | شاعری

جیسے خوبصورت چاندنی رات میں ستارے خاموشی میں دبے ہوئے ہیں۔

رات کے دو بجے بھی جیسے کوئی دو اجنبی جاگے ہوئے ہیں۔


صبح ہوئی، آنکھ کھلی میری تو خیال آیا

چلو اُنہیں بھی جگا دیتے ہیں،

لیکن اُن کی ایک بات سے میرے سارے خواب ٹوٹے ہوئے ہیں،

 - جب وہ کہتی ہے   

میرا الارم بننے کی کوئی ضرورت نہیں،

اُٹھے ہوئے ہیں۔ already ہم



میں نے سوچا — شاید غصّے میں کہا ہوگا، کیا ہی فرق پڑتا ہے،

میں تو ہوں ہی تھوڑا بے عقل، پر کیا کروں، اُن کے لیے میرا دل جو دھڑکتا ہے۔


شاید وہ میری Irritating باتوں سے روٹھے ہوئے ہیں،

پھر جگانے کی ہمت ہی نہیں ہوئی،

- جب وہ کہتی ہے  

میرا الارم بننے کی کوئی ضرورت نہیں،  

 اُٹھے ہوئے ہیں۔ already ہم


                                         — Seventeen

No comments:

Post a Comment

Library Me Ek Chaand | Poetry

Library me ek Chaand huaa karti hai, Khamosh kitaabon ke beech roshni bikhera karti hai. Pata nahi, shayad shor pasand hai usko, par bheed k...